Home

بہت سال پرانی  گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟

“اوئے گندے مہاجر!” زندگی میں پہلی مرتبہ جب یہ جملہ سنا تو اس وقت میری عمر کوئی سات یا آٹھ سال رہی ہوگی۔  میں اس وقت گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول میں درجہ سوئم   کا ایک طالب علم تھا اور یہ جملہ سنانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سندھی کے نئے استاد تھے۔  کلاس میں ان کا پہلا دن تھا اور پہلے ہی دن انہوں نے ہمیں ایک نئی اور ایسی شناخت عطا کردی تھی جس نے ساری عمر ہمارا پیچھا کرنا تھا۔ خیال رہے کہ یہ اسکول لاڑکانہ یا دادو کا نہیں بلکہ عروس البلاد کراچی میں واقع تھا جہاں میرے جیسے “گندے مہاجروں” کی اکثریت آج بھی مقیم ہے۔

اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ تھا کہ مہاجر اور فرزندِ زمین کون ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوگیا تھا کہ  یہ مہاجر اسکول کے باہر دیوار پر جئے مہاجر اور اسکول کے اندر سندھی کی کلاس میں گندے مہاجر ہوتا ہے۔ لاعلمی واقعی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جب تک ہمیں مہاجر کا مطلب نہیں پتہ تھا ہم اس بات کا برا بھی نہیں مناتے تھے۔ پھر ایک دن خدا جانے کس دھن میں ہم اپنے دوست وقاص بھائی سے پوچھ بیٹھے کہ یہ مہاجر کیا  ہوتاہے؟ اور اس کے معنی میں ایسا کون سا لطیفہ چھپا ہے جسے سن کر پوری کلاس اس وقت ہنس پڑتی ہے جب ہمیں گندے مہاجر کہا جا رہا ہوتا ہے؟ وقاص بھائی عمر میں ہم سے محض ایک سال بڑے تھے  مگر یو پی کی تہذیب میں ایک سال بڑا بھی بڑا ہی مانا جاتا ہے۔ سو  وقاص بھائی کو بڑا مان کر ہم نے مدعا ان کے سامنے رکھ دیا کہ ہمیں لفظ مہاجر کی معنیٰ بتائے جائیں۔ وقاص بھائی نے  “چوکو فور ” کا ریپر پھاڑتے ہوئے کمال شفقت سے ہماری جانب دیکھا اور بزرگانہ انداز میں گویا ہوئے کہ ” ایم کیو ایم ” کا کارکن مہاجر کہلاتا ہے۔ ہم نے وقاص بھائی  کی بات سن کر سکون کا سانس لیا اور ہنسی خوشی گھر لوٹ آئے کہ ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے کارکن تھے، ہم کیسے مہاجر ہو سکتے ہیں؟

اگلے دن سندھی کی کلاس میں ہم مسلسل خوشی سے پھدک رہے تھے۔ سندھی کے استاد نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا اور ہمیں اپنے پاس بلا کر محبت سے ہمارا کان تھاما اور پوری طاقت سے مروڑتے ہوئے گویا ہوئے،  چھا گالھ آں؟  کیوں پھدک رہا ہے؟ ہم نے تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیچر کو بتایا کہ انہیں غلظ فہمی ہوئی تھی کہ ہم مہاجر ہیں۔ دراصل ہمارے والد تو جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور ہمارا ایم کیو ایم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ٹیچر نے ہمیں اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھا اور کان کے نیچے ایک جھانپڑ رسید کرتے ہوئے بولے، جماعتی ہو یا  کوئی اور ، ہے تو گندا مہاجر ہی نا؟  چل سیٹ پر بیٹھ! ہم کان اور گدی  سہلاتے ہوئے واپس  سیٹ پر آگئے اوردل ہی دل میں وقاص بھائی کو جتنی بھی گالیاں یاد تھیں سنا ڈالیں۔

 گھر آنے کے بعد بھی میں اداس رہا اور کافی دیر بھٹکی ہوئی آتما کی طرح گھر کے اندر ہی گھومتا رہا۔ نانا ابا  گھر آئے ہوئے تھے اور میری اس بےچینی کو دیکھ رہے تھے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے اپنے پاس بلالیا اور اس بے چینی کی وجہ پوچھی۔ پہلے تو میں ہچکچایا مگر پھر پورا ماجرا ان کے سامنے رکھ دیا۔ نانا ابا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولے، تو عاطف میاں! آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاجر کون ہوتا ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نانا ابا نے بتایا کہ کسی بھی مقصد سے اپنا وطن چھوڑ کر کسی اورجگہ منتقل ہونے والے کو مہاجر کہتے ہیں۔ میں ہونقوں کی طرح نانا ابا کی شکل دیکھنے لگا۔ نانا ابا کی بتائی ہوئی تعریف کی رو سے مہاجر ہونے میں کوئی قابلِ تضحیک پہلو نہیں تھا جبکہ ہماری کلاس میں ہر بار اس لفظ کی پکار پر کلاس کے اکثریت میں موجود بچے ایک بلند قہقہہ لگاتے تھے۔  پھر میں نے سوچا کہ شاید لطیفہ اس اچھے اور گندے مہاجر میں چھپا ہو، لہٰذا میں نے نانا ابا سے اچھے مہاجر اور گندے مہاجر کا فرق پوچھ لیا۔نانا ابا میرے اس سوال پر کچھ کھسیانے سے ہوگئے۔ کہنے لگے کہ اس سوال کا جواب تو میرے پاس نہیں مگر تم کہو تو ایک کہانی تمہیں ضرور سنا سکتا ہوں۔

میرا اس وقت کہانی سننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر نانا ابا بڑے تھے اور آپا کہتی تھیں کہ بڑوں کی ہر بات ماننی چاہیئے سو میں نانا ابا کو انکار نہیں کرسکا۔ نانا ابا نے بتایا کہ بیٹا کچھ لوگ تھے جو ہندوستان نامی ایک ملک میں رہا کرتے تھے۔ ہندوستان پر اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی مگر  ہندوستانی یہ چاہتے تھے کہ انگریز ان کا ملک چھوڑ کر واپس انگلستان چلے جائیں۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اگر انگریز چلے گئے اور اکثریتی آبادی کی بنیاد پر اقتدار ہنود کے ہاتھ آگیا تو وہ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔  اس ہی خیال سے ہندوستان کے مسلمانوں نے “تقسیم کرو اور چھوڑو” کا نعرہ اپنایا اور ایک علیحدہ مسلم مملکت کی مانگ کردی۔

مسلمانوں کا خلوص رنگ لایا اور سن سینتالیس میں پاکستان وجود میں آگیا۔ بہت سارے مسلمان جو ہندوستان کے ان علاقوں میں مقیم تھے جو پاکستان کا حصہ نہیں بننا تھے، وہ بھی اس جدوجہد میں شامل تھے۔ کوئی ان مسلمانوں سے جب پوچھتا کہ پاکستان بن بھی جائے تو تمہارا کیا مفاد؟ تم نے تو ہندوستان میں ہی رہنا ہے! تو وہ جوابا صرف یہی کہتے کہ کم از کم ان مسلمانوں کو تو عزت سے جینے کی آزادی مل جائے جو مجوزہ پاکستان میں مقیم ہیں۔

ان دیوانوں کی بےلوث محنت اور قائد اعظمؒ کی شاندار قیادت سے ہم نے یہ آزاد وطن حاصل کرلیا۔  الگ وطن حاصل کرنے کے بعد بھی اس ملک میں بےشمار مسائل تھے۔ حکومت کہنے کو قائم ہوگئی تھی مگر اس حکومت کو چلانے کیلئے تجربہ کار لوگوں کا فقدان تھا۔ قائد اعظم ؒ نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آئیں اور نئے ملک کا انتظام چلانے میں مددگار بنیں۔ قائد کی اس پکار پر ہندوستان کے طول و عرض میں موجود مسلمانوں نے لبیک کہا اور اپنے مکان و کاروبار چھوڑ کر اس نئے ملک کے دست و بازو بننے پاکستان آگئے۔ ہجرت کے اس سفر میں کتنوں کے گلے کٹے، کتنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، کتنے اپنے پیاروں سے بچھڑے۔ آج تک اس کے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آسکے۔ مگر یہ تعداد بلا مبالغہ بھی لاکھوں میں تھی۔

میں علیگڑھ یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا۔  علیگڑھ میں ہی ایک چھوٹی سی زمین تھی ہماری اور اس کے علاوہ دلی میں ایک گھر تھا۔ میں دلی میں ہی نوکری کرتا تھا جب بٹوارے کا اعلان ہوا۔ میں نے ضروری سامان ساتھ لیا اور تمہاری نانی، ماں، اور بڑی خالہ کے ساتھ پاکستان کیلئے نکل پڑا۔ زمین اور گھر میں نے اللہ کے حوالے کردیئے تھے کہ ان  چیزوں کو بیچنے کیلئے رکنا پڑتا اور میں پہلی فرصت میں پاکستان پہنچنا چاہتا تھا۔ لٹتے ، مرتے، کٹتے جب ہم لاہور پہنچے تو مکان ، زمین، نقدی کے ساتھ ساتھ ہم تمہاری بڑی خالہ عصمت کو بھی کھو چکے تھے۔ ٹرین پر بلوائیوں نے حملہ کیا تھا اور اس بھگدڑ میں خداجانے عصمت کا ہاتھ کب تمہاری نانی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔  نانا ابا کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے اور وہ  کہانی سناتے سناتے خود ماضی میں پہنچ گئے تھے۔ میں نانا ابا کی کہانی سن رہا تھا اور چشم تصور سے ایک پانچ سال کی بچی کو لاشوں کے ڈھیر میں اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتے دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے میری بھی آنکھ سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔

نانا ابا نے میرے آنسو پونچھے اور بولے، جب لاہور پہنچے تو پتہ چلا کہ دارالخلافہ کراچی ہے اور پڑھی لکھی افرادی قوت کی سب سے زیادہ ضرورت وہیں ہے۔ ہم نے بچپن سے لاہور کے قصے سن رکھے تھے اور ہمارے لیئے لاہور ہی بڑا شہر تھا مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی ہمیں کراچی پہنچنا ہے۔ کراچی کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ دن والٹن کیمپ میں رک کر عصمت کا انتظار کیا مگر جب کافی دن تک کوئی خبر نہین آئی تو ہم نے خود کو سمجھانے کیلئے اس کو مردہ تصور کر لیا۔ آزاد وطن اتنے آرام سے تو نہیں ملتےنا  بیٹا؟ وہ اور ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جو صبح سو کر اٹھیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک آزاد وطن کا حصہ ہیں۔ ان کے گھروں کو آگ نہیں لگائی جاتی۔ ان کی بہن بیٹیوں کی ان کے سامنے عزتیں نہیں لوٹی جاتیں۔ ہم ایسے خوش نصیب نہیں تھے بیٹا، ہمیں آزاد وطن کی قیمت چکانی تھی سو ہم نے عصمت کو اس آزاد وطن کی قیمت سمجھ کر صبر کرلیا۔

عصمت پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لاہور میں رکنے کا جواز نہیں بنتا تھا سو ہم وہاں سے کراچی کیلئے چل پڑے۔ راستے میں بہت سے لوگوں  سے ملاقات ہوئی اور ہر کسی نے یہی مشورہ دیا کہ کراچی پہنچ جائو۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ کراچی اس لیئے بھیجا جا رہا تھا کہ اس کے آگے سمندر تھا۔ اگر اس سے آگے بھی کوئی شہر ہوتا تو یہ لوگ ہمیں وہاں تک پہنچا دیتے۔ کراچی جو تم آج دیکھتے ہو اس وقت ایسا نہیں تھا۔  اس وقت یہ جنگل ہوا کرتا تھا۔ پھر ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں نے اس شہر کو بسانا شروع کردیا۔  اس شہر کو وہ شہر بنایا جسے تم آج دیکھتے ہو۔  جو غریب کی ماں کہلاتا ہے۔ جس کے دروازے ہر نئے آنے والے کیلئے کھلے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور یہ ملک اور یہ شہر ترقی کرتا گیا۔ اس شہر کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی ترقی کرتے گئے۔ مگر  پھر اس ترقی کے سفر کو کسی کی نظر لگ گئی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس ملک میں آنے اور اس ملک کو اپنانے کے برسوسوں بعد ایک دن ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ہم سے ہمارا شہر  چھین لیا گیا۔ ہمیں یہ کہا گیا کہ چونکہ سندھ کے باقی شہروں میں رہنے والے نہیں چاہتے کہ کراچی میں  اقتدار نچلی سطح پر تقسیم ہو اس لیئے ہم کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروا سکتے۔ چونکہ باقی شہر ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں لہٰذا کراچی کو بھی ترقی کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ کراچی کی بدقسمتی ہے کہ وہ صوبہ سندھ کا حصہ ہے لہٰذا ہم عددی اکثریت کی بنا پر کراچی کے باگ ڈور ایسے افراد کے حوالے کرتے رہیں گے جو کراچی صرف گھومنے کیلئے آتے ہیں۔

بات صرف وسائل و ترقی کی ہوتی تو خیر تھی،مگر ہمارے ساتھ جو دوسرا ہاتھ ہوا وہ بہت شدید تھا۔ میرے بچے! ہم سے ہماری شناخت چھین لی گئی۔ ہندوستان سے آنے والے وہ لوگ جو لاہور رک گئے تھے عقلمند نکلے۔ پنجاب کے بھائیوں نے انہیں اپنایا اور اپنی شناخت میں حصے دار بنا لیا۔ جب کہ وہ بدقسمت جو کراچی آگئے تھے اب اپنی شناخت کیلئے پریشان تھے۔ اگر ہم اندرون سندھ جاکر اپنے آپ کو سندھی کہتے تو سندھی ہم پر ہنستے تھے۔ اگر ہم کسی اور شہر جاکر اپنے آپ کو مہاجر کہتے تھے تو لوگ ہم پر تھو تھو کرتے تھے۔ ہم پاکستانی کی شناخت پر مطمئن ہونا چاہتے تھے تو ہمیں یاد دلایا جاتا تھا کہ دراصل ہماری جڑیں ہندوستان میں ہیں ۔ ہم سندھ میں رہتے تھے مگر سندھی نہیں تھے۔ پاکستان کے شہری تھے مگر غدار کہلاتے تھے۔ لے دے کر ہمارے پاس ایک مہاجر کی شناخت بچی تھی کہ یہ ہمارا فخر تھا۔ مہاجر کا مطلب تھا وہ انسان جس نے اس ملک کیلئے  اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہو اور صعوبتیں برداشت کرکے اس ملک کا حصہ بنا ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شناخت بھی ہم سے اب چھین لی جائے گی۔میرے بیٹے! تم نے پوچھا تھا نا کہ گندے مہاجر کون ہوتے ہیں؟ میرے بچے! ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان میں کراچی آکر اپنا  گھربار، عزت و ناموس، جائیداد، جان و مال، اور آخر میں اپنی شناخت تک گنوا دینے والے مہاجرین کو گندے مہاجر کہتے ہیں۔

بہت سال پرانی یہ گفتگو آج پھر میرے دماغ میں گونج رہی ہے۔ سامنے ٹیلیویژن پر ایم کیو ایم کے لیڈران خورشید شاہ پر غصہ ہورہے ہیں  اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ خورشید شاہ نے کون سی غلط بات کردی ہے؟ اس ملک میں مہاجر ہونا کیا واقعی گالی نہیں ہے؟

کافی دیر تک یونہی بیٹھا سوچتا اور اداس ہوتا رہا اور پھر تنگ آکر نانا ابا کی ڈائری اٹھا لی۔ میں جب بھی بہت زیادہ اداس ہوتا ہوں تو نانا ابا کی ڈئری اٹھا لیتا ہوں۔غمزدہ ماحول میں عمدہ شاعری ایک بہترین سہارا ہوتی ہے اور  اشعار کے انتخاب میں میں نے نانا ابا سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔  ڈائری کھولتے ہی جس صفحے پر نظر پڑی اس پر منور رانا صاحب کے یہ اشعار درج تھے۔۔۔

مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے، ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں

کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر ، اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں

نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہیں

عقیدت سے کلائی پر جو اک بچے نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں، وہ رشتہ توڑ آئے ہیں

جو اک پتلی سڑک  یاں سے گھر کی اور جاتی تھی
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں

یقیں آتا نہیں ، لگتا ہے  کچی نیند میں شاید
ہم اپنے گھر، گلی، اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں

میں نے ڈائری بند کی اور کرسی کی پشت پر آنکھیں موند کر ٹیک لگا لی۔ کان میں سندھی کے اس استاد کا جملہ مسلسل گونج رہا تھا ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔ گندے مہاجر ۔۔۔۔ گندے مہاجر!!!!

Advertisements

4 thoughts on “مہاجر

  1. Well written & Great topic, much better then your own previous diary wwriting as I mentioned in my previous comments.
    I’m proud Lahroian & so called ‘Punjabi’ by Karachi friends & people. I visited Karachi 1st time 7 years ago and it was really strange for me that people were calling me Punjabi or from Punjab which I experienced first time in my life as no one else called me before.
    It’s negativity of our society and especially from teachers. I also believe that either All Pakistan is Mahajir or No one is Mahajir… And this is why I wanted that people of sindh or Karachi should stop this nonsense card of Mahajir & everyone should be treated equally!!
    All the best 🙂

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s