Home

8 – اگست – 1997

آج ہم لوگ نانا ابو کی طرف گئے تھے۔ میرا سارا ننھیال آج نانا ابو کے گھر جمع تھا۔ بڑے آپس میں باتیں کرتے رہے اور ہم بچے صحن میں دیر تک کھیلتے رہے۔ ہم سب نے خوب مزہ کیا۔ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوئے تو نانا ابو نے ہم بچوں کو جمع کیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ پہلے وہ ہم سب سے ہماری پڑھائی کے بارے میں پوچھتے رہے اور پھر نانا ابو نے سوال کردیا کہ نماز کا ترجمہ کس بچے کو یاد ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی نماز کا ترجمہ نہیں یاد تھا۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ بچپن سے نماز کی عادت تو تھی مگر کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ نماز میں ہاتھ باندھ کر ہم پڑھتے کیا ہیں۔ نانا ابو بہت اچھے ہیں۔ وہ ہمارے ٹیچر یا مولوی صاحب کی طرح بچوں کو شرمندہ نہیں کرتے بلکہ پیار سے سمجھاتے ہیں۔ نانا ابو نے ہم سب بچوں کو نماز میں پڑھی جانے والی چیزوں کے مطالب بتائے۔ جب نانا ابو بسم اللہ کا مطلب بتا رہے تھے تو مجھے خیال آیا کہ رحمان اور رحیم دونوں کا مطلب بہت زیادہ رحم کرنے والا ہوتا ہے۔ ایک ہی بات ایک ہی مختصر فقرے میں دو دفعہ کرنے کا کیا مطلب؟ میں نے جب یہ سوال نانا ابو سے کیا تو نانا ابو مسکرانے لگے۔ انہوں نے میرا ماتھا چوما اور بولے، جب میں تمہاری عمر کا تھا تو میں بھی یہ سوال اکثر سوچتا تھا۔ پھر ایک دن میں نے قرآن کی ایک تفسیر میں اس کا جواب پا لیا۔  تم نے زندگی میں بہت سے لمبے یا موٹے لوگ دیکھے ہوں گے۔ وہ اتنے لمبے یا اتنے موٹے ہوتے ہیں کہ صرف لمبا اور موٹا کہنے سے تمہاری تسلی نہیں ہوتی۔ تم لمبے کے ساتھ تڑنگا اور موٹے کے ساتھ تازہ کا اضافہ کردیتے ہو کہ مخاطب کو اندازہ ہوجائے کہ جن صفات کا تم بیان کررہے ہو وہ معمولی صفات نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اتنے زیادہ رحیم ہیں کہ محض رحیم کہنے سے ان کی رحمت کا احاطہ نہیں ہوپاتا۔ وہ اپنے رحم کی وسعت بیان کرنے کیلئے رحمان کے فورا بعد رحیم کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ ہم انسانوں کو اندازہ ہوجائے کہ ان کے پالنے والے کا ظرف اور اس کا رحم و کرم ہرگز معمولی نہیں ہے۔

جب سے نانا ابو کی بات سنی ہے میرا اللہ میاں کو دیکھنے کا شوق اور بڑھ گیا ہے۔ مجھے وہ بہت کیوٹ سے لگتے ہیں۔ ابو نے مجھے نیا کرکٹ کا بلا دلایا ہے۔ میں کسی کو اس سے بیٹنگ نہیں کرنے دیتا، مگر میں نے سوچ لیا ہے کہ جب میں اللہ میاں سے ملوں گا تو انہیں اپنے بلے سے بیٹنگ کرنے دوں گا۔ وہ ہیں ہی اتنے کیوٹ سے۔  اچھا اب میں سونے جارہا ہوں۔ خدا حافظ

1 – ستمبر – 1997

پیاری ڈائری! آج میں نے ایک بہت عجیب سی چیز سیکھی ہے۔ ابو ایک نئی کتاب لیکر آئے ہیں جو ان کے کسی دوست نے انہیں تحفہ دی ہے۔ اس نئی کتاب میں بہت اچھی اچھی دعائیں ترجمے کے ساتھ موجود ہیں۔ آج دوپہر میں یہ کتاب میرے ہاتھ لگ گئی اور میں نے عربی چھوڑ کر پورا ترجمہ پڑھ ڈالا۔ اتنی مزے مزے کی دعائیں ہیں اس میں۔ تم کہیں یہ نہیں سمجھ لینا کہ اس میں بریانی آنے کی دعا ہوگی میں اس لیئے اسے مزے کی دعا کہہ رہا ہوں۔ مزے کی اس لیئے کہ ان دعائوں کا ترجمہ پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے میں نونہال یا آنکھ مچولی کی کوئی بہت مزے کی نظم پڑھ رہا ہوں۔ اتنے پیار سے پیارے اللہ میاں کو پکارا گیا ہے ان دعائوں میں کہ پڑھ کر مزہ آگیا۔ اس کتاب میں ایک دعا ہے جس کا نام دعاءِ عرفہ ہے۔ کتاب میں لکھا تھا کہ یہ دعا امام حسین نے عرفات کے میدان میں پڑھی تھی۔ میں نے اس دعا میں ایک عجیب سی بات پڑھی۔ امام حسین نے اس دعا میں کہا کہ “بارِ الٰہا! تو نے میرا ساتھ اس وقت نہیں چھوڑا جب مجھے خود اپنے وجود تک کا ادراک نہ تھا۔ میں یہ کیسے مان جائوں کہ جب میں تیری جود و سخا اور تیرے لطف و کرم کا قائل ہو چکاہوں، تب تو مجھے اکیلا چھوڑ دے گا؟” اتنی گاڑھی اردو کی تو مجھے بھی سمجھ نہیں آتی حالانکہ اردو بولنے کی وجہ سے سب مجھے بیٹائے اردو کہہ کر چڑاتے ہیں۔ بابائے اردو تو مولوی عبدالحق تھے اس لیئے جب گلی کے بچے مجھے بابائے اردو بولتے تھے تو میں نے سوچا کہ مولوی صاحب برا مان جائیں گے لہٰذا میں نے خود ان سب کو کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے بیٹائے اردو کہہ دیا کریں۔ خیر، میں نے کتاب میں سے یہ جملہ یاد کیا اور پڑوس والے زیدی انکل کو سنا کر اس کا مطلب پوچھ لیا۔ زیدی انکل سے پوچھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ وہ امام حسین کے رشتہ دار ہیں۔ ان کے گھر میں امام حسین کے مزار کی تصویریں بھی تھیں اور وہ امام حسین کی برسی پر لنگر بھی بانٹتے ہیں۔ زیدی انکل میری بات سن کر مسکرائے اور پہلے تو پندرہ منٹ تک امت مسلمہ کا رونا روتے رہے کہ کس طرح امت نے اہل بیت اور ان کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس تقریر کے بعد انہوں نے مجھے سمجھایا کہ اس دعا میں امام حسین کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ! جب آپ کے وجود کا احساس ہونا تو دور، جب میں خود اپنے ہونے کا احساس تک نہیں رکھتا تھا، آپ نے تب بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ تو اب جب میں اپنے وجود کے ساتھ ساتھ آپ کے وجود کی عظمت، آپ کی کرم نوازی اور عنایات کا قائل ہوچکا ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں گے؟ امام حسین اس بات سے یہ احساس دلا رہے ہیں کہ خدا کسی بھی صورت اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔

زیدی انکل کی بات مجھے سمجھ آگئی تھی مگر اب ایک نیا سوال میرے دماغ میں گونج رہا تھا۔ میں نے زیدی انکل سے پوچھ لیا کہ اہل بیت کی وہ کون سی تعلیمات ہیں جنہیں امت مسلمہ بھلا چکی ہے؟ زیدی انکل میرے سوال پر بہت خوش ہوئے اور میرا ماتھا چوم کر بولے کہ جب اگلی مرتبہ ہمارے گھر مجلس ہوئی تو تمہیں بھی بلوائوں گا۔ خود سن لینا۔ میں نے ماتھے پر سے تھوک صاف کرتے ہوئے انکل سے کہا کہ انہیں بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا بیٹا اور میں مل کر ہی مجلس کی لائٹ جلانے کیلئے کنڈا ڈالا کرتے ہیں۔ انشاءاللہ میں خود حاظر ہوجائوں گا۔ میری بات پتہ نہیں کیوں زیدی انکل کو کچھ زیادہ پسند نہیں آئی حالانکہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں جب کوئی ان کے گھر کی مجالس میں شریک ہوتا ہے۔ مگر خیر یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ میں کون ہوتا ہوں؟ مجھے تو بس یہی خوشی کافی ہے کہ اللہ کے ایک عظیم انسان نے یہ اعلان کردیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ آئی لو یو اللہ میاں۔ اچھا اب بہت سارا لکھ لیا اب میں جا رہا ہوں۔ خدا حافظ

7 – نومبر – 1997

اسکول سے بہت زیادہ شکایات آنے لگی ہیں اس لیئے گھر میں سختی بہت ہوگئی ہے۔ پڑھائی پر بہت زیادہ زور دے رہا ہوں اس لیئے ڈائری میں لکھنے جیسا کچھ بھی نہیں بچتا میرے پاس اب۔ مجھے پتہ ہے کہ اسکول والوں کو میری پڑھائی سے زیادہ ان سوالات سے مسئلہ ہے جو میں ہر وقت پوچھ کر ان کی ناک میں دم کیئے رکھتا ہوں۔ مگر میں کیا کروں؟ میں جب تک کسی چیز کو سمجھ نہیں لیتا مجھے عجیب سی بےچینی رہتی ہے۔ اور چیزوں کی سمجھ اس وقت تک نہیں آتی جب تک میں سوالات نہ کروں۔ خیر! دعا کرو کہ اللہ میاں میری مشکلات حل کردیں۔ خدا حافظ۔

16 – جنوری – 1998

پیاری ڈائری! اب تو میں بھی غیر حاظری کی معذرتوں سے تھک چکا ہوں سو اب اگر طویل عرصہ غیر حاظر ہو بھی جائوں تو تم برا نہیں ماننا۔ دوپہر سے تمہیں تلاش کر رہا تھا کہ اپنی پریشانی تمہیں سنا سکوں، اور تم اب جاکر ملی ہو۔ آج ایک بہت عجیب سی بات ہوئی ہے اور میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔ تم بھی سوچتی ہوگی کہ تم کس کے ہتھے چڑھ گئی ہو، مگر میں کیا کروں؟ میں جان بوجھ کر پریشان اور اداس نہیں رہتا۔ بس حالات ہی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں کہ خوش رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

آج اسکول میں اردو کی کلاس میں ہم نے علامہ قفال شاشی کا مضمون پڑھا۔ ہماری استانی نے سبق پڑھ کر سنایا جس کے مطابق کسی زمانے میں ایک بہت مشہور لوہار ہوا کرتے تھے جن کا نام قفال شاشی تھا۔ خدا نے آپ کو ایک منفرد فن سے نوازا تھا اور آپ لوہے کے کام میں سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ آپ لوہے پر ایسے نقش و نگار تراشتے تھے جنہیں دیکھ کر لوگ مبہوت ہوکر رہ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ قفال شاشی بادشاہ کے لیئے ایک صندوق بنا کر لے گئے جس پر انہوں نے انتہائی دلکش نقش و نگار تراشے ہوئے تھے۔ بادشاہ اس صندوق کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور انہیں خوب انعام سے نوازا۔ ابھی بادشاہ ان کی تعریف کرہی رہا تھا کہ دربار میں ایک آدمی داخل ہوا اور بادشاہ سمیت تمام افراد اس شخص کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ بادشاہ نے تکریم کی انتہا کرتے ہوئے ان صاحب کو اپنے برابر میں بٹھا لیا۔ قفال شاشی یہ سب دیکھ رہے تھے اور حیران تھے کہ یہ کون آدمی ہے جس کے احترام میں خود بادشاہ نا صرف کھڑا بھی ہوتا ہے بلکہ انہیں اپنے برابر میں بھی بٹھاتا ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مشہور عالم ابو نصر فارابی ہیں۔ قفال شاشی نے سوچا کہ عالم کی اتنی عزت ہوتی ہے تو انہیں بھی لوہاری چھوڑ کر علم حاصل کرنا چاہیئے۔ ہماری استانی نے بتایا کہ قفال شاشی نے لوہاری چھوڑی اور حصول علم میں مشغول ہوگئے۔ برسہا برس گزرنے کے بعد جب رک کر جائزہ لیا تو انہوں نے خود کو ویسا ہی کورا پایا جیسے وہ حصول علم سے پہلے تھے۔ قفال شاشی مایوس ہوگئے اور تعلیم چھوڑ کر جنگلوں میں نکل گئے۔ استانی جی بتا رہی تھیں کہ بڈھا توتا کیا خاک پڑھے گا والا محاورہ بھی قفال شاشی نے ہی ایجاد کیا تھا۔ تو خیر، قفال شاشی جنگلوں میں نکل گئے اور ایک دن دیکھا کہ ایک پہاڑ سے پانی کی بوندیں گر رہی ہیں جنہوں نے اس پتھر میں گڑھا کردیا ہے۔ یہ دیکھ کر قفال شاشی نے سوچا کہ ایک بوند پانی مسلسل گر کر پتھر میں گڑھا کرسکتی ہے تو کیا میں پتھر سے بھی بدتر ہوں؟ آپ نے واپس تعلیم شروع کی اور ایک دن علامہ قفال شاشی  کہلائے۔

استانی جی نے سبق سنانے کے بعد ہم بچوں سے پوچھا کہ اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ سب سے پہلے میں نے اور کامران نے ہاتھ کھڑے کیئے۔ کامران کیوں کہ اسکول کے بعد استانی جی سے ٹیوشن بھی پڑھتا ہے اور ہمیشہ کلاس میں اول بھی آتا ہے لہٰذا استانی جی نے پہلے کامران کو بولنے کیلئے کہا۔ کامران نے کہا، کہ انسان اگر مسلسل محنت کرے تو وہ کچھ بھی حاصل کرسکتا ہے اور علم حاصل کرنے کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ استانی جی اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئیں۔ پھر میری باری آئی تو میں نے وہ کہہ دیا جو میری سمجھ میں آیا تھا۔ مین نے استانی جی سے کہا کہ اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آیا جب ہر لوہار اور چمار نے یہ سمجھ لیا کہ اگر عزت کمانی ہے تو  عالمِ دین بننا ہوگا۔ اور پھر یہ لوگ جب عالمِ دین بن گئے تو انہوں نے اپنی لوہاروں اور چماروں والی خصلت دکھاتے ہوئے ہم سب کو فرقوں میں بانٹ دیا۔

استانی جی پہلے تو منہ کھول کر میری شکل دیکھتی رہیں اور پھر مجھے پرنسپل صاحب کے دفتر میں لے گئیں۔ پرنسپل صاحب نے پورا ماجرا سنا اور کل مجھے ابو کو اسکول ساتھ لانے کیلئے کہہ دیا ہے۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ابو سے کیا کہوں کہ پرنسپل صاحب نے انہیں کیوں بلایا ہے۔ مجھے ابو کے غصے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ سوچ سوچ کر جان نکل رہی ہے۔ میرے لیئے دعا کرنا۔ خدا حافظ

18- جنوری – 1998

جسم پر کئی جگہ نیل پڑ گئے ہیں۔ اسکول میں ابو نے پرنسپل سر سے ملاقات کی اور پھر شام کو گھر آکر مجھے کمرے میں بند کرکے بہت مارا۔ باجی بھی بہت اداس ہیں۔ ان کا پسندیدہ ہینگر ابو نے میری کمر پر توڑ دیا ہے۔ باجی کہتی ہیں کہ امی کے گزرنے کے بعد ابو بہت غصیلے ہوگئے ہیں، پہلے وہ ایسے نہیں تھے۔ بیچارے ابو! اللہ میاں پلیز ان کی اداسی کو ختم کردیں۔ اب میں ڈائری نہیں لکھوں گا۔ خدا حافظ۔

جاری ہے

Advertisements

2 thoughts on “خدا – حصہ دوئم

  1. Tarz e tehreer umda hay…Either I am away from Pak for too long or I am suffering from some other issue because I had believed for a while that Pakistan has completely lost good takhleeq kaar….anyways…may Allah give u ability to become even better.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s