Home

نوٹ: اس کہانی کے تمام کردار  و واقعات فرضی ہیں۔ کسی بھی اتفاقیہ مماثلت کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہیں ہوگا۔

پیاری ڈائری!

کیا لکھوں اور کس طرح لکھوں؟ لکھنے بیٹھتا ہوں تو یادوں کے بےشمار جھروکے ایک ساتھ کھل جاتے ہیں اور پھر میں چاہ کر بھی کچھ نہیں لکھ پاتا۔ بیٹے کی تدفین کو بھی آج تین دن ہونے کو آرہے ہیں اور اتنے ہی دن مجھے جاگتے ہوئے بھی گزر چکے ہیں۔ جوان بیٹے کی لاش اٹھانا کوئی معمولی بات ہے؟  میں نے کب سوچا تھا کہ جس بیٹے کو میں بڑھاپے کا سہارا سمجھتا رہا ہوں ایک دن خود مجھے ہی اس کو سہارا دیکر آخری آرام گاہ تک لے جانا پڑے گا؟ گزشتہ تین دن میں مجھ پر تین صدیاں گزر گئی ہیں۔ درد، دکھ اور آنسوئوں سے بھری تین صدیاں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے بیٹے کا غم کھائے جارہا ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے میری بے بسی نے بوڑھا کردیا ہے۔

آج سے تین دن پہلے سب کچھ کتنا پرسکون تھا! عید الاضحیٰ تھی اور ہم دونوں باپ بیٹے نے مل کر سنتِ ابراہیمی ادا کی تھا۔ قربانی سے فارغ ہونے کے بعد میری تھکن کا خیال کرتے ہوئے میرے بیٹے نے گوشت بانٹنے کیلئے خود جانے کا اعلان کردیا۔ کچھ ہی دن پہلے میں نے اسے نئی موٹر سائیکل دلائی تھی اور آج کل وہ اسے چلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ میں نے بھی یہ سوچ کر اسے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ گوشت لیکر گھر سے نکلا اور پھر ایک گھنٹے بعد بیٹے کے موبائل سے فون آگیا جس پر کوئی انجان شخص ہوم کے نام سے محفوظ اس نمبر پر کال کرکے گھر کے کسی بڑے فرد کو شہر کے ایک مشہور ہسپتال بلوا رہا تھا۔

پہلے تو میں اسے ایک بھونڈا مذاق سمجھا مگر پھر یاد آیا کہ آج یکم اپریل نہیں ہے اور بیٹے کے تمام دوست یہ بات جانتے ہیں کہ میں ایک سابقہ وزیر اعظم کے پروٹوکول پر متعین پولیس والا ہوں اور اس قسم کے  مذاق کے نتائج بہت سنگین بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا اس بھونڈے مذاق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ میں نے گاڑی نکالی اور اڑاتا ہوا ہسپتال پہنچ گیا جہاں گوشت بانٹنے کے لیئے نکلنے والے میرے معصوم بیٹے کی لاش میری منتظر تھی۔

لوگوں نے بتایا کہ راستے میں اس کی مڈ بھیڑ کسی پولیس والے سے  ہوگئی تھی جہاں معمولی سی تلخ کلامی کے بعد اس پولیس والے نے میرے بیٹے پر فائر کھول دیا تھا اور اس کے نتیجے میں میرا جوان بیٹا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اس وقت تو سب سے اہم چیز بیٹے کی تجہیز و تکفین تھی سو میں نے اس پولیس والے کا معاملہ ایک دو دن کیلئے موخر کر دیا اور بیٹے کا جسدِ خاکی لیکر گھر آگیا۔ ویسے بھی میں فوری طور پر کچھ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا کیونکہ اس پولیس والے کو  ڈپارٹمنٹ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور میں حوالات کے اندر اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا تھا۔

تجہیز و تکفین اور پھر سوئم سے فارغ ہوکر میں متعلقہ تھانے پہنچ گیا اور انسپکٹر کے کمرے میں جاکر بیٹھ گیا۔ تھانے کا انسپکٹر میرا پرانا اور جگری دوست تھا لہٰذا مجھے امید تھی کہ مجھے کام کے سلسلے میں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ہم دونوں نے اس سے پہلے بھی افسرانِ بالا کے کہنے پر کئی جعلی پولیس مقابلے بھگتائے تھے، پھر یہ تو میرے اپنے بچے کے خون کا معاملہ تھا۔ قاتل ہمارا پیٹی بھائی سہی مگر تھا تو بہرحال میرے بیٹے کا قاتل؟ وہ کسی قسم کی رعائت کا مستحق نہیں تھا۔

انسپکٹر کہیں رائونڈ پر گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر پہلے تو وہ ایک لحظے کیلئے ٹھٹکا مگر پھر زبردستی مسکراتے ہوئے میرے گلے لگ گیا۔ میں اس کی گھبراہٹ نما سردمہری کو نظر انداز کرتے ہوئے ابھی تمہید باندھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے دبی ہوئی آواز میں مجھے بتادیا کہ میرا مطلوبہ آدمی اس وقت تھانے میں موجود نہیں ہے۔ میں نے بےساختہ مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ تالی مارنے کیلئے آگے کردیا۔ میں چاہتا تھا کہ اس کا شکریہ ادا کروں کے اس نے میری راہ ہموار کردی تھی مگر اس نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے اپنی جانب گھسیٹا اور اس ہی دبی ہوئی آواز میں بولا کہ جو ہوا سو ہوا، اب مجھے اس معاملے کو بھول جانا چاہیئے۔

میں حیران ہوکر اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ میں ایک سابقہ وزیرِ اعظم کی پروٹوکول ٹیم کا حصہ ہوں اور اگر چاہوں تو صاحب سے کہہ کر آج ہی اس کی وردی بھی اتروا سکتا ہوں۔ میرے بیٹے کا خون اتنا سستا نہیں تھا کہ اتنے آرام سے معاف کردیا جاتا۔ میں، جو اپنے صاحب کے قریب سے گزرنے والے کسی بھی شخص تک کی جان لینے کیلئے مشہور تھا، خود اپنے بیٹے کے قاتل کو زندہ گھومنے دوں؟ یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ انسپکٹر نے رحم آمیر نظروں سے میری طرف دیکھا اور کرسی کی پشت پر ٹیک لگاتے ہوئے بولا، دوست! تم کسی سابقہ وزیرِ اعظم کے پروٹوکول پر ہو یا سابقہ صدرِ مملکت کے؛ جس بندے پر تم ہاتھ ڈالنا چاہ رہے ہو وہ ایک موجودہ وزیر اعظم کے پروٹوکول اسٹاف کا حصہ ہے! کر لو جو کرسکتے ہو!!!

پیاری ڈائری! تم خود ہی بتائو کہ میں کیا کرتا اور کیسے کرتا؟ کل سے اب تک ماضی کے تمام کارنامے آنکھوں کے آگے گھوم رہے ہیں اور میں چاہ کر بھی اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پارہا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے بیٹے کا غم کھائے جارہا ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے میری بے بسی نے بوڑھا کردیا ہے۔

تمہارا

زبان دراز

Advertisements

2 thoughts on “زبان دراز کی ڈائری – 20

  1. جیسی کرنی ویسی بھرنی
    جب آپ کسی ساتھ سے گزرنے والے کو مارتے ہو توزندگی میں کہیں نہ کہیں وہی آپ کے ساتھ بھی ہوتا یے۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s