Home

نوٹ: اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کی سوچ میں پیدا ہونے والی کسی تبدیلی کا ادارہ زمہ دار نہیں ہوگا۔

پیارے بچوں! آرٹس کی چھوٹی بہن کو سائنس کہتے ہیں۔ ویسے تو دنیا بھر میں یہ ترتیب الٹی ہے اور دنیا بھر میں سائنس کو بڑی بہن مانا جاتا ہے مگر چونکہ آرٹ میں ایک آرٹسٹک رومان جھلکتا ہے اور یہ کام اکثر گھر بیٹھے بھی ہوجاتے ہیں لہٰذا ہمارے ملک میں آرٹ کو ہمیشہ زیادہ عزت دی جاتی ہے اور بڑی بہن سمجھا جاتا ہے۔ الحمدللہ اس ہی لیئے ہمارے معاشرے میں فنکار ایک تعریف جبکہ سائنس دان ایک قسم کا طنزیہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔

جہاں تک سائنس کی تعریف کا تعلق ہے تو اول تو سائنس کی تعریف ہم صرف وہاں تک کرسکتے ہیں جہاں تک مسلم سائنسدانوں کے نام آتے ہیں۔ اور ماضی قریب و بعید میں چونکہ ایسا کوئی سانحہ ہوا نہیں ہے جس میں مسلمانوں نے کوئی قابل ذکر سائنسی کارنامہ سر انجام دیا ہولہٰذا ہم اس مضمون میں سائنس کی تعریف سے اجتناب ہی کریں گے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نوبل انعام جیتنے والے پہلے مسلمان سائنسدان کے مرنے کے کچھ عرصے بعد ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام مسلمان نہیں بلکہ قادیانی تھے، لہٰذا مسلمانانِ پاکستان نے دینی غیرت کے تحت ان کی قبر کے کتبے سے لفظ مسلمان حذف کردیا ہے اور اب ان کا ذکر کرنا حرام اور کرنے والا ــــــــــــــــــــــــــ ہے٭۔  ایک اور اہم وضاحت اس باب میں یہ بھی ضروری ہے کہ حالیہ تاریخ میں ولید بن یوسف نامی عظیم مسلمان سائنس دان نے ستمبر گیارہ کو امریکہ کے مقام پر ایک ایسے کیمیکل کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا تھا جس سے کنکریٹ کے پہاڑ اور فولاد کے ڈھیر سے بنی عمارت تو پگھل گئی مگر اس کیمیکل کے زیرِ اثر معمولی پلاسٹک سے بنے ان کے چاروں کریڈٹ کارڈ نہیں جلے اور دنیا کو پتہ چل سکا کہ ستمبر گیارہ کے حملے کس نے کروائے۔ چونکہ ابھی تک دنیا محوِ حیرت ہے کہ یہ سائنس تھی یا آرٹ سو فی الحال ہم ولید بن یوسف کو یہیں چھوڑ کرآگے بڑھتے ہیں۔
٭ خالی جگہ پر کریں۔

سائنس کے بارے میں آپ کے سمجھنے کیلئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر وہ چیز جو ہزار کوشش کے باوجود کسی بھی طرح  آرٹ نہ بن سکے، ہم اسے سائنس کا نام دے دیتے ہیں۔ نیز ہر وہ چیز جس کو آپ سمجھ نہ پائیں آپ اسے بھی سائنس قرار دیکر شرمندگی سے بچ سکتے ہیں کہ جیسے ہی آپ کسی چیز کو سائنس قرار دے دیتے ہیں، مخاطب کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر آپ اس بات کو سمجھ نہیں پائے ہیں تو اس میں آپ کا قصور نہیں کہ یہ بات، محض ایک بات نہیں بلکہ سائنس ہے۔ ایسے مواقع پر آپ “بڑی سائنس ہے بھائی” قسم کے کلمات کہہ کر نہ صرف صاف بچ سکتے ہیں بلکہ سامنے والے شخص کے انا کے غبارے میں بھی مناسب مقدار میں ہوا بھر سکتے ہیں جو آگے چل کر آپ کے ہی کام آئے گی۔

پیارے بچوں! سائنس ہماری زندگی کا ایک بہت اہم جزو اور سیکھنے کیلئے بہت اہم موضوع ہے۔ اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر تمام اہم موضوعات کی طرح ہم نے اس پر کبھی کام نہیں کیا اور یہی بات سائنس کی اہمیت کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے نے آرٹ کو تو فن اور کلا اور خدا جانے کیا کیا نام دے دیئے مگر سائنس کی اہمیت اور حرمت کا خیال رکھتے ہوئے اسے ہمیشہ صرف سائنس ہی کہا، سنا، اور لکھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے سائنس کو کوئی اردوانہ نام دے دیا تو یہ سائنس کا استحصال اور انگریزوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ جس طرح امریکہ و برطانیہ میں ٹیکسی چلانا صرف پاکستانی و ہندوستانی ڈاکٹروں اور انجینیئرز کا کام ہے اور کوئی فرنگی ہمارے اس کام میں مداخلت نہیں کرتا تو اس ہی طرح انسانیت اور احسان مندی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بھی سائنس والے ان کے کاموں میں دخل نہ دیں۔ یہ بات مگر اپنی جگہ ہے کہ کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات ہر انسان کا حق ہے اور کہنے کو ہی سہی مگر چونکہ سائنس آپ کے نصاب کا حصہ ہے لہٰذا ہم آج آپ کو چند بینادی سائنسی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے جو زندگی میں آپ کے کام آسکیں۔

سائنس کا اصل مقصد مادہ اور اس کے خواص پر ہونے والی تحقیق ہے۔ مادے کی دو بڑی اقسام ہیں جن کی اپنی مزید شاخیں ہیں۔ مادے کی یہ دو بڑی اقسام سادہ مادہ اور نر مادہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ سادے مادے پر انسان بہت کچھ دریافت کر چکہ ہے مگر نر کی مادہ ہنوز تحقیق طلب ہے۔ ان دونوں مادوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سادہ مادہ اپنا مخصوص رویہ رکھتا ہے اور کسی مخصوص حالت میں اس کا ردعمل پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ نر کی مادہ البتہ اپنی فطرت اور رویوں دونوں میں آزاد ہے اور ایک جیسی صورتحال میں ہر بار الگ طریقے سے پیش آنے کے فن میں ماہر ہے۔ دونوں مادوں میں ایک اور بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ پہلے مادے سے مل کر تصویر کائنات بنی ہے جبکہ نر کی مادہ اس تصویرِ کائنات میں رنگ بھرنے کے کام آتی ہے۔ محاورے کی زبان میں جب کسی کو مادہ پرست انسان کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہی دوسری والی مادہ ہوتی ہے۔ نر کی مادہ کی سمجھ چونکہ آج تک کسی کو بھی نہیں ہوئی تو آپ کے بھی سمجھنے کے آثار کچھ ایسے روشن نہیں ہیں، لہٰذا آج ہم صرف کائنات کے مادے کے بارے میں بات کریں گے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ یہ کائنات مادے سے مل کر بنی ہے۔ جبکہ یہ مادہ خود لاکھوں کڑوڑوں ایٹم سے مل کر بنتا اور محض ایک ایٹم بم سے تباہ ہوجاتا ہے۔ ایٹم کے اپنے بھی چار جزو ہوتے ہیں جنہیں الیکٹرون، پروٹون، نیوٹرون اور مورونز کہا جاتا ہے۔ مورونز نامی حصہ سب سے طاقت ور ہوتا ہے اور طاقت کے بنیادی اصولوں کے تحت کسی بھی چیز میں طاقتور کا نام لینا فعل قبیح اور ناقابلِ معافی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اس ہی اصول کے تحت حکومت گرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فوج کے بجائے سیاستدانوں پر آتی ہے۔ اگر آپ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہتے ہوں تو مطالعہ پاکستان کی کتاب یا آج کا اخبار ملاحظہ کرلیں۔

مغربی ممالک میں سائنس کا دوسرا نام تحقیق بھی ہے۔ پیارے بچوں! تحقیق اپنے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اور چیزوں کی اصل سمجھنے کی ایک جان لیوا بیماری ساتھ لاتی ہے لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم  اس تحقیق نامی بلا سے دور رہیں۔ ایڈز اور دوسری بیماریاں بلاوجہ بدنام ہیں ورنہ امت مسلمہ کو جتنا نقصان اس تحقیق نے پہنچایا ہے وہ آج تک تمام بیماریاں مل کر بھی نہیں پہنچا سکیں۔ نہ یہ مردود کفار تحقیق کی بیماری کا شکار ہوتے نہ یہ سائنسی ایجادات ہوتیں اور نہ ہم مسلمان آج دنیا بھر میں محکوم ہوتے۔ امت مسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کفار سے لڑنے کیلئے بھی ہم ان ہی کفار کی دریافت کردہ ٹیکنالوجی اور ان ہی کے بنائے ہوئے اسلحے کے محتاج ہیں۔ تصور تو کیجیئے، آپ کے محلے کے مشہور مولوی اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں اس طرح جارہے ہوں کہ پیچھے بیٹھے تمام مریدوں کے ہاتھ میں میخائل کلاشنکوف کی بندوق کے بجائے ہاتھ میں غلیل ہو اور اس غلیل کا ربڑ کھنچائو دیکھ کر مسلمان متعین کریں کہ حالات خراب ہیں یا صحیح؟ اور اگر تصور مزید اجازت دے تو ڈبل کیبن ہٹا کر وہاں ایک گھوڑا کھڑا کردیجئے اور محظوظ ہوئیے۔ یہ تو خیر مذاق کی بات تھی ورنہ مجھے زندگی سے بہت پیار ہے اور میں کسی بھی مسلک کے مولوی سے اس کا ڈبل کیبن گاڑی رکھنے کا حق چھیننے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ آپ سے ایسے احمقانہ خیالات کی امید کرتا ہوں۔ اس بارے میں کبھی سوچ آ بھی جائے تو لعنت ان کفار پر ہی بھیجیئے گا جنہوں نے اسلحہ سازی پر اتنی تحقیق کی اور آج ان ہی کی وجہ سے مسلمان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہیں ورنہ چاقو خنجر کے زمانے کے بارہ سو سال میں حرام ہے کہ کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کا خون بہایا ہو۔

پیارے بچوں!  شاید اللہ تعالٰی کو خود بھی منظور نہیں کہ ہم فتنے میں گرفتار ہوں اس لیئے کفار کی حرکات سے تنگ آکر اگر کبھی ہم مسلمانوں نے اس تحقیق کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا بھی تو ہمیں عبرت دلانے کیلئے ایسی عجیب خرافات کا شکار کردیا گیا جن کا علاج رہتی دنیا تک ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ایک دوست جناب عاطف علی المعروف زبان دراز کو بھی پچھلے سال یہ تحقیق نامی بیماری ہوئی تھی اور تب سے وہ عجیب بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ہندو، عیسائی، سکھ، شیعہ، سنی اور احمدی سب کے خون کا رنگ ایک ہی جیسا ہوتا ہے اور اس خون کے بہنے پر سب کے گھر والوں کو ایک ہی جتنی تکلیف ہوتی ہے۔ نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی اور مہاجر خون بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور محض علاقائیت و لسانیت کی بنیاد پر کسی انسان کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ لاحول ولا قوۃ!!!
تحقیق کے بارے میں یہ بیان بھی ضروری ہے کہ اس تحقیق کی وجہ سے ہی زیادہ تر مشہور مسلمان اپنے وقتوں میں دہریے کہلائے اور زیادہ تر غیر مسلم سائنس دان اس ہی تحقیق کے ذریعے خدا سے قریب ہوگئے۔ مسلمان سائنس دانوں کے مذہب سے لاتعلق رہنے کا البتہ یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کے مسالک نے ان کو کبھی اپنایا نہیں اور آج ہمارے پاس شیعہ سائنسدان اور سنی سائنس دان کی تفریق نہیں ہے اور وہ بیچارے آج بھی معاشرے کے اس محروم طبقے میں موجود ہیں جومحض مسلمان ہی کہلاتے ہیں اور شیعہ، سنی جیسے قابل فخر اور باعثِ نجات القابات سے محروم ہیں۔ خدا ان بیچاروں کے حال پر رحم کرے۔

پیارے بچوں!  بنیادی سائنس کے سلسلے میں ہم نے تمام ضروری گزارشات عرض کردیں ہیں۔ اگر آپ اب بھی مزید تشنگی محسوس کریں تو ابنِ انشاء صاحب کی اردو کی آخری کتاب سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اور اگر اس کتاب کے بارے میں نہیں جانتے تو مزید معلومات کیلئے اپنے والدین سے رجوع کریں۔ اگر شومئی قسمت انہوں نے بھی اس کتاب کے بارے میں نہیں سنا تو سب کام چھوڑ کر پہلے ان کے علاج کیلئے کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ہمیں اجازت دیں کہ اب آپ کیلئے بیسک اردو کی کتاب بھی لکھنی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s