Home

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی بستی میں جعفر اور عمر نام کے دو دوست بستے تھے۔ دونوں کا تعلق اچھے گھرانوں سے تھا جہاں بچوں کو سونے کا نوالہ کھلا کر دیکھا شیر کی آنکھ سے جاتا تھا۔ کہانی چونکہ غیر سیاسی ہے لہٰذا آپ بھی اسے جنگل والا شیر ہی سمجھیں جو اب تک سیاست کے کارزار سے دور، اور شاید اس ہی لیئے عزت دار ہے۔

جعفر اور عمر اچھے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ کلاس فیلو بھی تھے۔ دونوں شروع سے پڑھائی میں اچھے ہونے کے ساتھ ساتھ بزرگوں کا احترام کرنے اور غریبوں کے کام آنے کیلئے بھی مشہور تھے۔ دونوں دوستوں میں اکثر یہ دوستانہ مخاصمت بھی رہتی کہ نیکی کے کاموں میں کون دوسرے سے سبقت لے جائے۔

وقت کے ساتھ ساتھ دونوں اب سینئر کیمبرج میں پہنچ گئے تھے۔ دونوں دوستوں کو نئی ٹیکنالوجی خاص طور پر موبائل فون کا بہت شوق تھا۔ ان دونوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وقت کا سب سے جدید موبائل فون ان کے استعمال میں ہو۔ چونکہ باقی چیزوں میں دونوں دوست کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتے تھے لہٰذا ان کے اس بےضرر شوق سے بھی کسی کو کوئی شکایت نہیں تھی۔ کیمبرج کے امتحانات اب نزدیک تھے سو ان کا جذبہ بڑھانے کیلئے دونوں کے گھر والوں نے یہ اعلان کردیا تھا کہ اگر وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجاتے ہیں تو ان دونوں کو اپنی مرضی کے موبائل فون دلا دیئے جائیں گے۔ وہ دونوں اس چیز کو لیکر کافی پرجوش تھے اور خوب دل لگا کر پڑھائی کر رہے تھے۔

امتحان آئے بھی اور چلے بھی گئے۔ نتیجہ آیا تو ان دونوں دوستوں کی محنت رنگ لے آئی اور دونوں دوست امتیازی نمبروں سے پاس ہوگئے۔دونوں کے گھر والے ان کی اس کامیابی سے بےحد خوش تھے۔ انہوں نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آج یہ دونوں دوست اپنے لیئے نیا آئی فون 6 خریدنے مارکیٹ کیلئے نکلے ہوئے تھے۔

دونوں دوستوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ نہ صرف وہ، بلکہ ان کے دوست بھی اس نئے فون کو دیکھنے کے مشتاق تھے جس کے بارے میں وہ پچھلے ایک ماہ سے انٹرنیٹ پر چیزیں پڑھ رہے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں طویل ضرور تھیں مگر اس صبر کا انہیں بہت میٹھا پھل مل رہا تھا اور یہی ان کیلئے بہت تھا۔

وہ دونوں مارکیٹ میں داخل ہونے ہی لگے تھے کہ تین چار لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ ان میں سے ایک ضعیف بوڑھا تھا اور باقی دو مفلوک الحال خواتین۔ بوڑھے نے جعفر کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے فریاد کی کہ اس کا جوان بیٹا ایک اندھی گولی کا شکار ہوچکا ہے اور اب اس کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر وہ دونوں اس کی مدد کردیں تو وہ اپنے یتیم پوتے پوتیوں کے لیئے کھانا لے جائے گا۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے گھر میں دو جوان بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے رخصت نہیں ہوپارہی ہیں اور اسے ان کی امداد کی ضرورت ہے جبکہ دوسری خاتون کا شوہر ایک حادثے کے بعد سے گھر پر پڑا ہوا تھا اور اب اس کے پاس اپنے خاوند کے علاج کیلئے پیسے نہیں تھے۔ نیز اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عمر اور جعفر اس کی مدد کردیں تووہ ان پیسوں سے اپنے بچوں کا اسکول کا یونیفارم اور کتابیں بھی خرید لے گی کہ سرکار کے ہزارہا دعووں کے باوجود اب بھی کتب اور یونیفارم بازار سے ہی خریدنا پڑتا ہے۔

جعفر اور عمر دونوں خاموشی سے ان کی گفتگو سنتے رہے اور جب ان تینوں کی بپتا ختم ہوئی تب تک ان دونوں کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر تمام پیسے نکال لیئے۔ دونوں نے ان پیسوں کو گنا تو یہ پورے دو لاکھ روپے تھے؛ اتنی ہی رقم تھی جس سے وہ نیا موبائل آنا تھا۔ اگر اس میں سے سو روپے بھی کم ہوجاتے تو وہ نیا موبائل نہیں لے سکتے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا اٹھے۔ وہ دونوں ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ دونوں نے پیسے جیب میں واپس ڈالے اور ان تینوں کو “معاف کرو بابا، چھٹے پیسے نہیں ہیں” کہہ کر مارکیٹ میں داخل ہوگئے۔

لاکھوں روپے غریبوں پر لٹا کر صرف بچوں کے رسالوں میں ہی خوشیاں ملتی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ آئی فون 6 سے ملنے والی سچی خوشی انہیں کبھی بھی ان بھکاریوں کو پیسے دیکر حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔

ختم شد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s