Home

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں شروع سے ایسا نہیں تھا۔ اکیس سال کی عمر تک میں بھی آپ جیسا ایک عام سا ہی انسان تھا جو روزانہ صبح اٹھ کر ایک خاص عادمی کی نوکری کرتا تھا اور پھر پورا دن سہانے مستقبل کے خواب دیکھتا ہوا رات گئے اپنے ادھاروں کی گنتی کرتے ہوئے سو جاتا تھا۔ زندگی نے عجیب موڑ اس وقت لیا جب میں نے حب الوطنی کے کسی جرثومے کے زیرِاثر اپنی کمپنی کے ٹیکس کے گھپلوں کی رپورٹ ایک اخباری روزنامے کو بھجوادی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روزنامے کا مالک خود بھی ایک خاص آدمی اور ہماری کمپنی کے مالک کا دوست نکلے گا۔ رپورٹ گھوم کر واپس کمپنی میں پہنچ گئی اور میں گھما کر واپس گھر بھیج دیا گیا۔

بیروزگاری کے یہ دن شدید اذیت ناک تھے۔ جس ادارے میں بھی نوکری کیلئے جاتا وہاں یہ خبر پہلے سے پہنچ جاتی کہ اس لڑکے کو ایمانداری کی جان لیوا بیماری ہے۔ کمپنیز کو لگتا تھا کہ یہ چھوت کی بیماری ہے اور پھیل سکتی ہے لہٰذا کوئی بھی اب مجھے نوکری دینے کیلئے تیار نہ تھا۔ تین ماہ کی بیروزگاری میں جتنی بھی ایمانداری تھی وہ مناسب راستہ دیکھ کر جسم سے باہر نکل گئی تھی۔ اب میں چوری، ڈکیتی اور اجرت پر قتل تک کرنے کو تیار تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ بد اچھا بدنام برا۔ شہر کے سارے چور اور ڈکیت مجھے پہچانتے تھے اور کوئی بھی مجھے گروہ میں شامل کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا کہ کیا پتہ کب پرانے جراثیم جاگ جائیں اور میں اپنے ساتھ انہیں بھی لے ڈوبوں۔

بیروزگاری کے ان تین ماہ میں میرے اندر ایک اور بہت بڑی تبدیلی آئی تھی۔ میں اب بلاتھکان اور بغیر سوچے سمجھے بولنا شروع ہوگیا تھا۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں، کس سے بول رہا ہوں اور کیوں بول رہا ہوں؟ جو منہ میں آتا تھا بک دیتا تھا۔ لوگ اب مجھ سے ڈرنا شروع ہوگئے تھے۔ ان بیچاروں کو اب مجبوری میں میری عزت کرنی پڑتی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا تو میں کہیں بھی کھڑا ہوکر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا شروع کردوں گا اور پھر ان کی ساری عمر اس کی وضاحت میں گزر جائے گی کہ معاملہ ایسا نہیں ایسا تھا۔ معاشرے کی یہ خوبی کہ اگلے سے منسوب ہر اچھائی کے بخیے ادھیڑ دو اور ہر برائی کو من و عن تسلیم کرلو، میرے بہت کام آرہی تھی۔

اب مجھے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ میری ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے محلے والے موجود تھے۔ جس کسی کو بھی کسی غریب سے دشمنی نکالنی ہوتی تھی وہ میرے گھر کچھ نذرانہ لیکر پہنچ جاتا اور میں ایک کے چار بنا کر اگلے دن محلے میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ دیتا تھا۔ زندگی اب سکون سے گزر رہی تھی مگر محلے والوں کو احساس ہوگیا کہ ایک ایک کرکے میرے ہاتھوں وہ سب ہی ذلیل ہورہے ہیں۔ محلہ کمیٹی کا اجلاس بیٹھا اور سب نے سر جوڑ کر بالآخر حل یہ نکالا کہ میری اس بیماری کا علاج کروایا جائے ورنہ میری بیماری کی وجہ سے بہت جلد محلے میں طلاقیں شروع ہوجائیں گی۔

اب میرے علاج کا مرحلہ شروع ہوا جس کا خرچہ محلے والوں نے بخوشی اٹھانے کا اعلان کردیا۔ خدا جانے کتنے حکیم، وید اور ڈاکٹر تھے جن کے پاس مجھے بھیجا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ طب یونانی سے لیکر طب مشرقی اور ایلوپیتھک سے لیکر ہومیو پیتھک تک کون سا طریقہ علاج تھا جو آزمایا نہ گیا ہو مگر میرا وہی حال تھا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ان تمام روائتی طریقوں سے تنگ آکر پھر بابوں اور پیر فقیروں کا سلسلہ شروع ہوا مگر الحمدللہ میں جہاں بھی گیا وہاں موجود پیر کو اپنا مرید ہی بنا کر اٹھا۔ مجھے خود بھی اب اس سارے کھیل سے لطف آنے لگا تھا۔ محلے کا واحد بیروزگار ہونے کے باوجود محلے کا سب سے شاہانہ طرزِ زندگی میرا تھا۔ محلے والے اس حقیقت کو جانتے تھے مگر مجبور تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی میرے علاج سے مایوس ہوگئے تھے۔ پھر ایک دن پتہ چلا کہ اخلاق صاحب نے جو محلہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، ہمالیہ کی چوٹیوں پر موجود ایک سادھو کا پتہ لگایا ہے جو ہر اس بیماری کا علاج جانتا ہے جس کا علاج دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔ چار دن کے بعد میں ہمالیہ کے برفاب پہاڑوں پر ان بابا کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس سے پہلے کہ بابا مجھ سے کچھ پوچھتے اور کہتے میں ہمالیہ کی پگھلتی ہوئی برف اور انسانی آبادی کے اس پہاڑ پر اثرات کے سلسلے میں اپنی تقریر شروع کرچکا تھا۔ کوئی سات منٹ تک میں نے ان بابا کو ایران توران کے قصے سنائے اور تحقیق سے ثابت کیا کہ کس طرح وہ بابا اور انسانیت کے مسیحا کہلانے کے باوجود دراصل انسانیت کے مجرم ہیں۔ بابا خاموشی سے میری بات سنتے رہے اور جب میں سانس لینے کیلئے رکا تو انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کمال محبت سے میرے منہ پر ٹیپ لگادی۔ میں حیرانی سے ان کی شکل دیکھ رہا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ انہوں نے میرے گال پر رسید کیا اور دھیمے لہجے میں گویا ہوئے کہ، ابے سالے! تیرے جیسوں کو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ تیری یہ بیماری کوئی نئی نہیں بلکہ اولین انسانوں کے اندر بھی اس بیماری کے جراثیم پائے گئے تھے۔ یہ کل کے لونڈے جو ڈاکٹر بنے پھرتے ہیں اگر تاریخ انسانی اور نفسیات بھی پڑھ لیتے تو تجھے ہمالیہ تک ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چل اب منہ پر سے ٹیپ ہٹا اور مزید سن۔ طب نے بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی تیری اس بیماری کی صرف دو قسمیں دریافت کی ہیں جو خونی اور بادی کہلاتی ہیں جبکہ تجھے اس بیماری کی تیسری اور سب سے خطرناک قسم لاحق ہے جسے ہزاروں سال پہلے ہمارے بزرگوں نے “منہ کے بواسیر” سے تعبیر کیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بیماری ہنوز ناقابل علاج  ہے۔ البتہ اگر تو چاہتا ہے کہ معاشرے میں تیری کھوئی ہوئی عزت دوبارہ بحال ہوجائے تو اپنا یہ منحوس کان میرے قریب لا اور میری بات سن۔ بابا نے اس کے بعد جو حل مجھے بتایا وہ یقینا قابل عمل بھی تھا ور کارآمد بھی۔ میں خوشی خوشی بابا کے پاس سے اٹھ کر واپس کراچی آگیا۔ مجھے اپنی بیماری کا حل معلوم ہوگیا تھا۔

میرا نام عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل درست پہچانا، میں اب ایک مشہور ٹیلیویژن چینل پر دن میں مارننگ شو اور رات کو حالات حاظرہ کا پروگرام کرتا ہوں۔

Advertisements

One thought on “مریض

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s