Home

بہت سالوں کا قصہ ہے
ادھورا یاد ہے اب بھی
وہ شاید اک نومبر تھا
کراچی جل رہا تھا ان دنوں، ہر سال کی مانند
(کسی نے فیس بک پر (یا سماجی رابطے کے اور زریعہ پر
مجھے درخواست بھیجی تھی
کوئی تحریک تھی شاید
یا پھر دھرنا رہا ہوگا
کہ “ہم سب ظلم کے آگے کھڑے ہیں، آپ بھی آئیں”
میں پڑھ کر ہنس دیا تھا وہ
مگر سوچا،
چلو اس بار چل کر دیکھ لیتے ہیں!!!

ادھورا یاد ہے کچھ کچھ ۔۔۔۔
بہت سالوں کا قصہ ہے
وہ دھرنا تھا کہ جلسہ تھا
بہت پرجوش تھا لیکن!
مقرر زور دے کر کہہ رہے تھے کس طرح ان کا ستم پچھلوں سے کم ہوگا
بڑا پرجوش مجمع تھا
بڑے پرجوش نعرے تھے
ادھورا یاد ہے سب کچھ
بہت سالوں کا قصہ ہے
پر اتنا یاد ہے اب بھی
وہیں میں نے تمہیں دیکھا
یہ بالکل یاد ہے مجھ کو
بہت پر جوش تھیں تم بھی
تمہارے سرخ چہرے پر
پسینہ یوں چمکتا تھا
کہ جیسے چند موتی گر گئے ہوں اک انگارے پر
تمہارے کان کا آویزہ
ہر نعرے کی لے پر رقص کرتا تھا
تمہاری زلف
کوڑا بن کے ہلتی تھی
تمہارے ہاتھ ۔۔۔۔
بہت ہی خوبصورت ہاتھ تھے وہ
پر ۔۔۔
میں شاید بھول بیٹھا ہوں!!!
بہت مدت کی باتیں ہیں
بہت مدت کی باتیں، اس طرح کب یاد رہتی ہیں!!
ارے ہاں، یاد آیا
تمہاری آنکھ میں اس دن بھی کچھ الجھن رہی ہوگی
یا شاید اور کچھ جذبے
جنہیں تم روکنا چاہتیں تھیں
مگر جذبے کہاں پابند؟
اشاروں میں، کنایوں میں
یہ باہر آ ہی جاتے ہیں
یہ اپنا رنگ دکھاتے ہیں
بہت مدت کی باتیں ہیں
کہاں اب یاد رہنی ہیں
مگر ایک بات تو طے ہے
سنو معصوم سی لڑکی
تمہاری جھیل آنکھوں میں
اداسی تب بھی بستی تھی!!!

سید عاطف علیٓ –
5-3-2014

Advertisements

2 thoughts on “یادِ گم گشتہ

  1. بہت دن سے سوچ رہی تھی آپ نے کچھ لکھا کیوں نہیں اتنی اچھی نظمیں پوسٹ کیوں نہیں کی ؟ماشاللہ ہمیشہ کی طرح بہت خوب لکھا

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s