Home

دل کی گہرائیوں سے آپ تمام احباب کو شبِ ویلنٹائن ڈے مبارک ہو۔ آج تیرہ فروری ہے اور انشاءاللہ کل کا سورج ہم پر چودھویں شریف (المعروف ویلنٹائن ڈے) لے کر طلوع ہوگا۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو اس دن سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

تعارف:
یہ سال کی وہی مبارک تاریخ ہے جو محبت کرنے والوں سے منسوب ہے، ہرگاہ کچھ میڈیا نہ اندیش لوگ یہ افواہ بھی اڑاتے پائے گئے ہیں کہ ان سینٹ ویلنٹائن سے پہلے بھی لوگ محبت کیا کرتے تھے مگر یہ نری افواہ ہے سو اس پر کان نہ دھرا جائے اور خشوع و خضوع سے اس دن کا اہتمام کیا جائے۔ گوکہ اس عظیم دن کا آغاز یورپ کی تاریک گلیوں میں ہوا مگر اس دن کو صحیح عظمت برِ صغیر آکر ہی ملی۔ صحیح کہا تھا کسی نے کہ ہیرے کی قدر صرف جوہری ہی کرسکتا ہے۔ سو چونکہ یہ دن محبت سے منسوب ہے اور محبت کوئی کام نہیں ہے لہٰذا اس میدان میں کوئی ہمارے قریب تک نہیں پہنچ سکا۔
خدا فیض صاحب کا بھلا کرے کہ اچھے وقتوں میں ہی عشق کو کام سمجھنے کے نقصانات بتا گئے، سو ہم نے من حیث القوم نہ کبھی عشق کو کام سمجھا اور نہ کبھی کام سے عاشقی کرنے جیسے غیر مسلمانہ فعلِ قبیح کے مرتکب ہوئے۔

آداب:

اعمالِ شبِ چودھویں شریف:
رات ہوتے ہی محبوب کو کال ملا لیں (اس سے پہلے کے کوئی اور ملائے)۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیا زمہ دارانہ صحافت اور ہمدردیِ خلقِ خدا کا ثبوت دے گا اور آپ کو انشاءاللہ ایک ہفتہ پہلے سے ہی یاددہانی کروانا شروع کردے گا۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض اداروں نے تو الٹی گنتی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اجرکم ال اللہ

اعمال روزِ چودھویں شریف:

غسل:
روایات سے ثابت ہے کہ اس دن کو غسلِ شرعی کرنا چاہئے (دن کے آغاز میں بھی) کیونکہ اگر پچھلے ویلنٹائن پر ملا عطر ختم ہو بھی گیا ہو تو یہ غسل کم سے کم ایک/دو گھنٹے کیلئے آپ کی عزت اور محبوب کی ذندگی دونوں پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ البتہ اگر صورتحال گمبھیر ہو رہی یو تو تحفے میں ملنے والا پرفیوم چیک کرنے کے بہانے ہی لگا لیں کہ زندہ رہے گی/گا تو ملتی/ملتا رہے گی/گا۔  

لباس:
اچھے سے اچھا کپڑا پہنیں بلکہ پچھلے سال کی طرح دوست سے مانگ کر اوقات سے اچھے کپڑے پہنیں کیونکہ سامنے والی/والا بھی میاں منشاء کی بیٹی/بیٹا نہیں ہے اور آج کا گلابی سوٹ اپنی کسی دوست سے “کیسی/کیسا کوئی کنجوس کمینی/کمینہ ہے تو، بھین/بھای کی کھسیوں سے جلیوس ہوریا/ہورئی ہے، دیکھ لڑکا/لڑکی گولستانِ جوہر سے آریا/آرئ اے، کیا سونچیں گا/گی” کہہ کر لایا/لائی ہے۔

کھجور:
اصل مطلب وہی ہے جو آپ سمجھے ہیں سو آگے چلئیے۔ اور اگر آپ کو واقعی نہیں پتہ کے ڈیٹ پر کیا کرنا ہے تو صرف ایک کام کیجئے کہ بیچاری/بیچارے کی جان بخش دیجئے۔ “ایویں ٹیم کھوٹا نہ کریں”۔

خیر صاحب یہ تو تھی مذاق کی باتیں۔ اب ویلنٹائن ڈے منانا چاہئے یا نہیں؟ صرف ایک دن کی تخصیص کیوں؟ کیا مذہب اور تہذیب ان سب کی اجازت دیتے ہیں؟ میں ان سب سوالوں کے جواب نہیں جانتا ۔۔۔۔ میرا سوال تو بس اتنا ہے کہ ۔۔۔۔۔

کیا آپ کسی کوئٹہ کے ہزارہ یا کسی گمشدہ بلوچ اور کسی دفاعِ وطن کیلئے اجڑے ہوئے گھرانے کے لواحقین کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دیں گے کہ محبت کے اس دن پر وہ سب سے پہلے میری محبت کے حقدار ہیں؟؟؟؟ پلیز؟؟؟؟؟

Advertisements

7 thoughts on “Valentine’s Day

  1. اس سال تو ہم ہر طرح کی طرح فار ایور الون ٹہرے ہیں.
    لیکن اگر آیندہ آنے والے سالوں میں اس پیر کی بدعا اور بنگالی باجی کی بندش کا توڑ ہوا تو یہ آپ کے بنیادی اصول یقیناً افاقہ دیں گے :ڈ

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s