Home

ڈائری کی پہلی تحریر بھی کیا خوب رہی- اچھن میاں تو پڑھتے ہی کہہ اٹھے کہ میاں دنیا والوں کے لیئے اور تکالیف کیا کم تھیں کہ تم نے ڈائری اور لکھنا شروع کر دی؟ سخت بات کہنا ان کی خاندانی عادت ہے سو میں اب برا نہیں مانتا۔ قریشی صاحب جو محلے کے مانے ہوئے ادیب ہیں کو جب پتہ چلا کہ محلے میں ان کے علاوہ کسی اور نے بھی لکھنے کی کوشش کی ہے تو بقولِ چناب غصہ سے جامنی ہی تو ہو کر رہ گئے- چناب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تو سرخ ہونے کی تھی مگر موجودہ رنگت کے حساب سے وہ صرف جامنی ہی ہو پائے- مجھے چناب پر ٹوکنے سے پہلے یہ خود فیصلہ کر لیں کے کیا واقعی ہم نے راوی کو اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ کوئی کام کر سکے؟؟ خدا جھوٹ نہ بلوائے،راوی سے زیادہ تو زکام میں ہمارے چھوٹے بیٹے کی ناک بہہ لیتی ہے۔ قریشی صاحب کے تعارف میں اتنی ہی بات کافی ہے کہ موصوف کا ایک خط ہمدرد نونہال میں چھپ گیا تھا اور تب سے انہوں نے خود ادیب [ظاہر ہے زبردستی] کہلوانا شروٰع کردوا دیا۔ بزرگوں نے سمجھایا بھی کے آپ کے نام کے ساتھ یہ ادیب کا لاحقہ میل نہیں کھاتا مگر جناب مصر تھے کہ جب “مرزا ادیب” ہو سکتے ہیں تو “قریشی ادیب” کیوں نہیں؟ نیز یہ کہ محلے کے سارے بزرگ تعصبی ہیں اور ایسے لوگوں سے قرض ادھار رکھنا کارِگناہ ہے۔ تِس پر تمام اہلیانِ محلہ نے مل کر ان کے اس خط کے قصیدے پڑھے اور تعریف کی باقاعدہ بالٹیاں برسائیں نیز قریشی صاحب کو ان تمام اوصاف جمیلہ سے بھی روشناس کرایا گیا جو ان کی بے حد محبت کرنے والی ماں بھی کبھی ان میں نہ دیکھ پائیں تھیں۔ قریشی صاحب کو ان تمام باتوں پر یقین آگیا اور محلے داروں کے گھر ایک بار پھر سے ادھار پر گوشت آنے لگا۔ خیر ہمیں کسی کی برائیوں سے کیا لینا دینا ویسے بھی ہم نہ تو پٹھان ہیں نہ غیبت خور کے پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کریں۔ واللہ اعلم بالصواب 

آج ہمارے بیٹے کے سکول سے شکایت آئی تھی سو ہم سکول جا پہنجے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دستور بھی بدلتے جاتے ہیں[یا شاید وقت ایک جیسا رہتا ہے اور انسان بل جاتے ہیں؟] ، ہمارے زمانے میں فیل ہونے پر بچہ ذلیل ہوتا تھا آج کل اس ہی بات پر استاد ذلیل ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک دوست سے یہ بات کی تو کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے  “کیا کیجیئے صاحب۔ ہمارا پیشہ ہی ایسا ہے!” اور میں سوچتا رہ گیا کہ علم بانٹنا کب سے پیشہ بن گیا؟ ہمارے زمانے میں پیشہ کوٹھوں پر اور علم مکتب میں ملتا تھا مگر شاید اب مکتب میں بھی ۔۔۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا، سو بہرحال ہم سکول پہنچ کر ان کے استاد سے ملے جن کا کہنا تھا ہمارے بیٹے کو اردو تلک ٹھیک سے نہیں آتی اور یہ ہر لَفَظ کا تُلفَظ غَلْط  ہی کرتا ہے۔

 

فی الحال اجازت کے کل بیٹے کا داخلہ کرانے نئے سکول جانا ہے۔

والسلام

ایک اردو زدہ انسان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s