Home

منی بس میں حسب معمول شدید رش تھا اور میں نشست یا شاید زیادہ اپنی منزل کے انتظار میں کھڑا ٹریفک کی بے ہنگم صورتحال اور اس بظاہر نہ ختم ہونے والے سفر کو کوس رہا تھا۔ ان منی بسوں، سست ٹریفک اور نشست کے انتظار سے یوں تو پرانی آشنائی ہے مگر مصیبت کتنی ہی مسلسل کیوں نہ ہو اس کی عادت نہیں پڑتی جبکہ آسائش کتنی ہی مختصر وقفے کی ہو ساری عمر کے لیئے اپنی لت لگا جاتی ہے-

انتظار سے تنگ آکر میں نے ارد گرد نظر ڈالی تو بس کو ہر طرح کے لوگوں سے بھرا پایا۔ کراچی میں ساحل کے بعد میری سب سے پسندیدہ چیز اس شہر کی یہی وسعت قلبی تھی۔ دلی سے آنے والا مہاجر ہو یا سیالکوٹ سے آنے والا پنجابی، پشاور کا پٹھان ہو یا سکھر کا سندھی، اس شہر نے کبھی کسی آنے والے سے اس کا نام، مسلک یا ذات نہیں پوچھی۔ غریب کی ماں کا خطاب اس کو واقعی جچتا تھا۔ لیکن شاید خطاب دینے والے کے گمان میں بھی یہ نہیں آیا ہو گا کے غریب کی ماں کا پیٹ اکثر خالی اور آنکھ اکثر بھری رہتی ہے۔

دو بزرگ اپنے اپنے پیروں کی کرامات پر بحث میں اس طرح مصروف تھے کہ اگر ایک بزرگ کی منزل نہ آجاتی تو دوسرے والے ان سے اعتراف کروا چھوڑتے کے اسلام میں اللہ رسول اور اصحاب کے بعد سب سے برگزیدہ ہستی ان کے حضرت والا ہی ہیں۔ مجھے بچپن کی وہ بات یاد آگئی کے “پیر خود نہیں اٰڑتے، ان کے مرید اڑاتے ہیں”۔ ایک پٹھان بھائی ڈرون طیاروں اور ان کے شجرہ نسب پر روشنی ڈالنے میں مصروف تھے اور ڈرون کی والدہ سے متعلق ان کے بیان کردہ ارادوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انسان اور مشین کے تعلقات بہیت جلد ایک نیا اور تاریخی موڑ لینے والے ہیں۔ ایک حضرت پاک-ایران گیس پائپ لائن کے فوائد اور خطے میں ایران اور سعودیہ کی جنگ پر اپنے زریں خیالات سے نواز رہے تھے اور ہر دلیل کے ساتھ اونچی ہوتی ان کی آواز مجھے یاد دلا رہی تھی کے جب دلیل کمزور ہو جائے تو آواز خودبخود اونچی ہو جاتی ہے۔

اگلے اسٹاپ پر ایک نشست خالی ہوئی تو میں تیزی سے اس کی طرف لپکا، جو صاحب اس نشست کے انتظار میں پہلے سے کھڑے تھے وہ پہلے تو تھوڑے ہچکچائے مگر پھر کمال مہربانی سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “آپ مجھ سے زیادہ تھکے ہوئے ہیں، پہلا حق آپ کا ہے”۔ نشست کیا آئی، گویا جان میں جان آگئی۔ نشستوں پر بیٹھے تمام مسافر جو اس سے پہلے نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی لگ رہے تھے یکایک کھڑے ہوئے مسافروں سے بہتر لگنے لگے۔ اور کیوں نہ لگتے؟ جو مسافر اب تک کھڑے ہوئے تھے وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے گویا میں کوئی نہایت مطلبی، خودغرض اور بناوٹی انسان ہوں؟ اچھا ہوتا ہے جو ان کو نشست نہیں ملتی، ہیں ہی اس ہی قابل1 دل میں یہ سوچ کر میں اب ان صاحب کی طرف متوجہ ہوا اور رسما پوچھ لیا کہ انہوں نے یہ زحمت کیوں کی میرے لیئے؟ اس سے پہلے کے وہ کوئی کوڑھ مغز قسم کا جواب دیتے میں بات کا پہلو بدل کر امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کے حل پر آگیا کہ یہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ اگلے بیس منٹ تک ہماری [زیادہ تر میری] گفتگو اسلام کی نشاط اول کے راست باز، قانون اور اصول پسند مسلمانوں پر رہی۔ ہم دونوں کا اتفاق تھا کہ مسلمان اگر صرف قانون پسندی ہی کر لے تو بھی ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو سکتا ہے۔ گفتگو کچھ اور آگے چلتی تو میں ان صاحب کو مزید سکھاتا کے میری برسوں کی تحقیق کس طرح مسلمانوں کے کام آ سکتی ہے، مگر ان کی منزل آگئی تھی سو انہوں نے رخصت چاہی۔

اترنے سے پہلے کنڈکٹر کو روک کر کچھ پیسے دیے اور اسے یاد دلایا کے وہ ٹکٹ لینا بھول گیا تھا۔ میں نے کہا کہ بھول چوک اسلام میں معاف ہے، اگر وہ کرایہ لینا بھول گیا تھا تو آپ بھی بھول جاتے؟ وہ بس سے اترتے ہوئے آہستہ سے گویا ہوا “جی، میں مسلمان نہیں ہوں۔”

اس سرگوشی میں چھپے تھپڑ کی آواز آج تک مجھ میں گونجتی ہے۔

سید عاطف علی
11-12-2013

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s