Home

کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے وقت نیت یہ تھی کے کچھ ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو اس مشکل زندگی میں سے آپ کے لیئے مسکراہٹ بھرے چند لمحے چرا لائے- میں شرمندہ ہوں کے ایسا نہ کر سکا!!!

اگر شاعر پیسوں سے نہیں الفاظ سے غریب ہوتا تو آج شاید میرا دیوالیہ نکلا ہوا ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی کاوش اس دعا کے ساتھ آپ کے نام ، کہ خدا کرے آپ کو اس نظم میں اپنا عکس نہ دکھائی دے۔

کچھ کہوں؟
کیا کہوں؟
خیر، ۔۔۔ جانے بھی دو
لفظ کب تھے میرے؟

[شاعری۔۔۔
ساحری۔۔۔
میرے بس کی نہیں ۔۔۔
چھوڑو ضد نہ کرو۔۔۔
دیکھو جانے بھی دو۔۔]
لفظ ہیں معجزہ
وقت پر مستعمل ہو سکیں یہ اگر
مردہ لاشوں میں بھی جان یہ ڈال دیں

لفظ قاتل بھی ہیں
یہ وہ سفاک قاتل ہیں جن کا ہنر
ہر زمانے سے تھا
ہر زمانے میں ہے ۔۔۔ صورت بے مثل

زخم جس کا کبھی
لگ کے بھرتا نہیں
یہ وہ ہتھیار ہیں
لفظ آزار ہیں

یہ کہاں ۔۔ میں کہاں؟
کیا کہوں؟ کیوں کہوں؟
گر جو چاہوں بھی تو
تم سے کیوںکر کہوں؟؟

میں نے سوچا ہے کہ
اب میں چپ ہی رہوں

عاطف علی
دسمبر- ۹ – 2013

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s