Home

جب سے سنا تھا کہ ہر بڑا آدمی بلاگ لکھتا ہے تو فطرتاَ یہ شوق ہوا کہ ایک پلاٹ اپنے نام نہ سہی مگر بلاگ ضرور اپنے نام سے ہونا چاہیئے۔ [بڑا آدمی بننے کا تو یاد نہیں البتہ بڑا آدمی دکھنے کا شوق ہمیں بچپن سے ہے]۔

چونکہ اس، اور آنے والے ہر بلاگ کی زبان اردو ہو گی اس لیئے احتیاطا٘ اردو کا جدید اور ذاتی مرتب کردہ قاعدہ اس بلاگ میں حاظر ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے “زبانِ بلاگِ یار اردو، کہ من اردو نمی دانم”۔ محظوظ ہوئیے ۔۔۔

بَل قاٰعدہ

الف:
پرانے زمانے میں اس سے انار آتا تھا مگر آج کل سب کچھ پیسوں سے آتا ہے.
حاصل گفتگو: اب الف سے کچھ نہیں آتا

ب:
کسی زمانے میں بلّا ہوتا تھا مگر اب یہ بلّا ایک سیاسی جماعت لے گئی-
اب ب سے بَلائیں آتی ہیں

پ:
پ سے جو پتنگ آتی ہے اس کے بارے میں گفتگو کرنا حرام ہے… باقی آپ سمجھدار ہیں!
وضاحت: پ سے پیسے بھی آتے تھے جو اب صرف کرپشن سے آتے ہیں

ت
ت سے تتلی آتی ہے جو بڑی ہو کر پھلجھڑی بنتی ہے اور مزید بڑی ہو کر شادی کر لیتی ہے
وضاحت: تاڑو ت سے نہیں بد قسمتی سے آتے ہیں

ٹ
… ٹ سے جو ٹماٹر آتے تھے وہ اب دو سو روپے سے بھی نہیں آتے
وضاحت: ٹکلا ٹ سے نہیں آپ کے ووٹ سے آتا ہے سو اب بھگتیں

ث:
ث سے آنے والی چیزوں میں سب سے قابل ذکر ثنا ہے- ماشاءاللہ
وضاحت: ث سے جو ثمر آتا ہے اس کا مطلب گرمی نہیں پھل ہوتا ہے

ج:
چے کے چھوٹے بھائی کو ج کہتے ہیں!!!
مثال: جہالت، جمہوریت، جیو، جنگ وغیرہ وغیرہ

چ
اردو زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ چ ہے – شرفاء میں اسے احمق بھی کہا جاتا ہے.
وضاحت: جو آپ سمجھے اصل مطلب وہی ہے

ح
ح سے پہلے حیرت ہوتی تھی- آج کل یہ حیرت لوگوں کو دیکھ کر ہوتی ہے.
ح الفاظ: حوالدار ، حکمران ، حرامی

خ
خ سے پہلے خلوص آتا تھا.. آج کل خونی رشتوں سے بھی نہیں آتا.
وضاحت: مصنف بلاوجہ جذباتی ہو رہا ہے آپ خربوزہ کھائیں

د
… دال سے صرف گیس آتی ہے باقی باتیں آپ کی عزت رکھنے کیلئے مشہور ہیں

ذ
ذ سے اب اردو دانوں کے لیئے صرف ذلت ہی آتی ہے-
شکریہ

ر
ر سے تو آج کل صرف رونا ہی آتا ہے
وضاحت: ریٹویٹ ر سے نہیں بیہودگی اور گالیوں سے آتی ہے

ز
پہلے زن ز سے آتی تھی آج کل ٹویٹر پر خود محنت کرنی پڑتی ہے!
سوال: سنا ہے ز سے آنے والے زر کیلئے بھی اب انتخاب لڑنا پڑتا ہے؟

س
پہلے س سے سی این جی آتی تھی اب دو گھنٹے کی ذلت کے بعد بھی نہیں آتی
س سے شروع ہونے والے جملے: س آن ہے بھائی وغیرہ وغیرہ

ش
ش سے پہلے نیک شہید آتے تھے مگر ملّا کے فضل سے آج کل کتے “ہی” شہید ہو رہے ہیں-
سنجیدہ نکتہ: شرم و حیا ش سے نہیں اچھی تربیت سے آتی ہے

ص
ص سے صراحی آتی تھی جو دو نسلوں پہلے متروک ہو چکی ہے – آج کل اس نام کا ایک بناسپتی آتا ہے بس..
ص سے شروع ہونے والے جملے: ص آگیا بادشاہو

ط
بچپن میں اس سے طوطا آتا تھا مگر آفتاب اقبال کے خبرناک کے بعد اب وہ بھی ت سے آتا ہے-
وضاحت: طاہرالقادری ط سے نہیں جی ایچ کیو سے آتا ہے

ظ
ظ سےپہلےظروف(برتن) لائےجاتےتھے آج کل اس کام کیلئےنکاح کر لیا جاتا ہے جس سے کھانا پکانے والی بھی مل جاتی ہے-
ظرف ظ سےنہیں کردار سےآتا ہے

ع
آج کل ع سےصرف ایک سابقہ کرکٹرکانام آتا ہےجبکہ عورت ع سےنہیں اپنی مرضی سے آتی ہے!
نوٹ:  آپ جب اس بلاگ کا تذکرہ احباب سے کریں گے تو شیطان آپ کو روکے گا!!!

غ
کسی زمانے میں غ سے غیرت آتی تھی مگر اب کسی بات پر نہیں آتی-
وضاحت: آپ کے اساتذہ سدا کے جھوٹے تھے، آپ بخوبی واقف ہیں غبارہ پیسوں سے آتا ہے

ف
ف سے سرکاری فوارہ ہوتا ہے جس کی برکت سے ٹھیکیدار کا پورا گھر بن جاتا ہے
وضاحت: فالوور ف سے نہیں گندی ٹویٹس اور لڑکی کی تصویر سے آتے ہیں

ق
ق سے پہلے قائد اعظم آتے تھے مگر زیارت میں گھر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے بھی آنا چھوڑ دیا!!!
سنجیدہ نکتہ: قائد اب واقعی نہیں آتے

ک
ک سے پہلےکتاب آتی تھی اب کیسےبھی نہیں آتی. ملک کے بیشتر حصوں میں قائد اب ک سےآتےہیں.
وضاحت: کافر ک سے نہیں مولویوں کے فتووں سے ہوتے ہیں-

گ
بچپن میں گ سے گائوں ہوتا تھا آج کل حقارت سے ہوتا ہے
تشریح: کچے مکانوں اور پکے رشتوں سے بنی چھوٹی سی بستی کو اکثر گائوں کہتے ہیں

ل
ل سے اور مسلسل آنے والی سب سے مشہور چیز لوڈ شیڈنگ ہے.
[وضاحت: یہ واحد لفظ ہے جو کسی مسلم لیگی دھڑے سے نہ جڑا ہو [ن ج ق ض وغیرہ وغیرہ

م
مرغا اور ملک دونوں م سے آتے ہیں بس پہلے مرغا کھایا ور ملک چلایا جاتا تھا جبکہ اب ملک کھایا اور مرغا بنایا جاتا ہے
وضاحت: یہ محض اتفاق ہے کہ محبت اور موت دونو م سے ہیں

ن
ن سے آنے والی نرگس پہلے اپنی بے نوری پہ روتی تھی آج کل سٹیج پر ناچ کر شرفاء کو رلاتی ہے۔
وضاحت:  لفظ “گنجا” ن سے نہیں آتا یہ افواہ ہے

و
آج کل و سے واہ واہ آتی ہے اور جسے کرنی آتی ہے اس کی زندگی بن جاتی ہے۔
وضاحت: سیف علی خان اردو والا “و” نہیں بولتا

ہ
ہ سے عوام کے حصے میں ہمیشہ ہاتھ آتا ہے ۔۔۔
اگر آپ حکومتی ارکان میں سے ہیں تو میرے ساتھ مل کے دوبارہ پڑھیں “یہ سب میڈیا کا پروپیگنڈا ہے

ی/ے
ی سے پہلے یکّہ/تانگہ آتا تھا مگر اب تانگے کا ذکر کرنے سے شیخ رشید صاحب برا مان جاتے ہیں ۔۔۔
نوٹ: گدھے کو باپ بنانے والا محاورہ “ی/ے” سے نہیں آتا

غور سے پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔ اس امید کے ساتھ اجازت کے کاوش پسند آئی ہو گی ۔۔۔

ملتمس دعا
احقر
سید عاطف علی

09-Dec-2013

Advertisements

5 thoughts on “بَل قاٰعدہ

  1. بلاگستان میں خوش آمدید
    پہلی تحریر ایسی ہے تو آگے کیا قیامت نہ اٹھائیں گے۔
    منہ پر تعریف کرنا مشرقی آداب کے خلاف ہے۔ لہذا تھوڑے کہے کو بہت جانیں
    اور لکھتے رہیں۔
    بہت ہی مزے کی تحریر۔۔

    Like

  2. یہ وہ قائدہ ہے جو باقائدہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے.
    خاص طور پر جو “ق سے قائد” کا پارٹ ہے
    اس کو پڑہ کر ایک دم سے لگا دل پر رکھ کر کسی نے گهونسہ مارا ہے.
    بہت خوب
    بہت اعلیٰ
    لکهتے رہیئے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s